فاقوں کے دن گئے تو محبت نے آ لیا
ہمارے ساتھ سبھی حادثے ترتیب سے ہوئے
فاقوں کے دن گئے تو محبت نے آ لیا
ہمارے ساتھ سبھی حادثے ترتیب سے ہوئے
رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا
اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا
مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں
برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا
ھم اِس جنم میں تُجھے دیکھنے کی خاطِر تھے
اور ایک جنم میں تُجھے چاھنے کو آئیں گے
کندن ہوئے ہیں آگ بھی اپنی جلا کے ہم
ہم پر کسی سنار کی مرضی نہیں چلی
آج کی رات بھی گزری ہے کل کی طرح
ہاتھ آئے نہ ستارے ترے آنچل کی طرح
دشت وحشت میں سرابوں کی اذیت کے سوا
ایک محبت تھی میرے پاس رہی وہ بھی نہیں
ایسا جلا کہ کچھ بھی تو روشن ہوا نہیں
اور یوں بجھا کہ مجھ سے دھواں تک اٹھا نہیں
تجھ کو خبر تو ہے کہ کوئی سوکھتا ہے کیوں
پھر بھی تو پوچھتا ہے کہ میں کیوں ہرا نہیں
موج در موج اُترتا ہے شبِ ہجر کا چاند
ہم سمندر نہ سہی دیدہِ نم رکھتے ہیں
ایسـا نہـں کہ بن تیـرے ٹھہـری رہی حیات
کٹ تو رہی ہے لیکن دل کو میرے کاٹتے ہوئے
تمہیں بس لاکھ تک آتی ہے گنتی
کروڑوں خامیاں ہیں مجھ میں
نہ جانے کب ھو گا تو پہلے سا میسر مجھ کو
نہ جانے کب ھو گی جدائی کی یہ عدت پوری
تیرے بعد ناز نہیں اٹھائے گئے مجھ سے
تیرے بعد کسی کو منایا نہیں میں نے
یاد آئیں گی کبھی تو غفلتیں تم کو
تمہیں دُکھ نہ ہونے کا بڑا دُکھ ہو گا
چراغ جلیں نہ جلیں یہ ہوا کا مسئلہ ہے
ہم حریف شب رہیں گے یہ انا کا مسئلہ ہے
میں تجھے یاد بھی کرتا ہوں تو جل اٹھتا ہوں
تو نے کس درد کے صحرا میں چھوڑا ہے مجھے
بہت ہی پختہ مزاج ہے وہ شخص
یاد رکھـتا ہـے کہ ، یـاد نہیں کرنا
میں سردیوں کی ٹھٹھرتی شاموں کے سرد لمحوں میں سوچتا ہوں
وہ سرخ ہاتھوں کی گرم پوریں نجانے اب کس کو راس ہوں گی
کیوں طعنہ زن ہیں آپ میری سست چال پر
میں جن پہ چل رہا ہوں وہ پتھر تو
دیکھئے
چار سو پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا
اتنا آسان بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا
پھر ایک روز تجھے چھوڑنا پڑا دنیا
فقیر کو تری قربت خراب کرتی ہے
آدمی ایک دفعہ دل سے اُتر جائے تو پھر
ساتھ رہ سکتا ہے , درکار نہیں رہ سکتا
جُدا ھُـوا ھے تو پِھر جان کی امان نہ دے
تِرے بَغیر جِیئیں ھَم میں اِتنا دَم تو نَہیں
رونا ہوتا ہے کسی اور حوالے سے مجھے
اور ایسے میں تیری یاد بھی آ جاتی ہے
یہ بات کس کو بتاؤں کہ ایک دن میں نے
کسی طرف کو نکلنا ہے اور پھر نہیں ملنا
ہمیں بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
فراز اس نے بھی پوچھا تھا حال ویسے ہی
تُو تغافَل بھـی کَرے ، عِشق اور نَفرت بھی
میـں تِیرے حِصّے میں اِتنا تو نَہیں آنـے والا
پرسانِ حال کب ہوئی ہے وہ چشمِ بے نیاز
جب بھی گرے خود ہی سنبھلتے رہے ہیں ہم
اجالے یونہی قسمت میں نہیں آئے ہیں
چراغوں نے ادا کی ہے سحر کی قیمت
کوئی منافقت سکھاؤ مجھے
رشتے نبھا سکوں میں بھی
تو دیکھ لینا ہمارے بچوں کے بال جلدی سفید ہوں گے
ہماری چھوڑی ہوئی اداسی سے سات نسلیں اداس ہوں گی