زندگی میں وہ گھر جو آپنے خود بنایا ہو چھوڑنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
30.01.2025 16:56 — 👍 3 🔁 0 💬 0 📌 0زندگی میں وہ گھر جو آپنے خود بنایا ہو چھوڑنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
30.01.2025 16:56 — 👍 3 🔁 0 💬 0 📌 0ایک مسئلہ ہے،بہت پرانا مسئلہ ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سے
22.01.2025 17:32 — 👍 11 🔁 2 💬 2 📌 0
ٹرمپ آگیا اقتدار میں
خان صاحب کی رہائی ابھی تک کیوں نہیں ہوئی ؟
چلتے رہیں گے قافلے
میرے بغیر بھی یہاں
ایک ستارہ ٹوٹ جانے سے
آسمان سونا نہیں ہوتا
اے زیست ادھر دیکھ کہ ہم نے تری خاطر
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
ہم کو تو گردشِ حالات پہ رونا آیا
رونے والے تجھے کس بات پہ رونا آیا
کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں
اہلِ دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا
جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
ہاں مجھے تلخیِ حالات پہ رونا آیا
اور یہ جو کر رہے ہیں نصیحتیں
انہیں مشوروں کی ہیں عادتیں
دل خواب زد انہیں چھوڑ
یہ تیری داستاں نہیں جانتے
نہیں
20.01.2025 12:42 — 👍 1 🔁 0 💬 0 📌 0
ایک عمر گنوائی ہے ہم نے
بس تیرا ساتھ نبھاتے رہے
ہر مشکل راہ سے نکال کے ہم
خوشیوں کی راہ دکھاتے رہے
تم اہل جفا غم دیتے رہے
ہم درس محبت دیتے رہے
احساس مگر نہ آیا تمہیں
غیروں کی روش اپناتے رہے
اب دل پہ غموں کی دستک تم
پھر سے نہ لگاؤ رہنے دو
نفرت کو چھپا کر تم دل میں
الفت نہ سکھاؤ رہنے دو
میرے سرتاج کو 14 سال کی سزا ؟
اللہ کرے شہباز شریف اور حافظ صاحب کا خربوزہ کبھی میٹھا نہ نکلے۔
ہمارے معاشرے میں خالی کمرے کسی بھی قابل دوست اور بھائی سے زیادہ راز سنتے ہیں۔
نہ جانے کیوں ہم ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹ نہیں سکتے کہ اسکو خالی کمروں میں سرگوشیاں نہ کرنی پڑیں۔
قبرستانوں میں کسی بھی محبت نامے سے زیادہ سرگوشیوں والی ندامتیں سننے کو ملتی ہیں۔
زندگی میں انا اور تکبر کو سائیڈ پر رکھ کر غلط فہمیاں دور کرنے میں نہ جانے ہم دیر کیوں کر دیتے۔۔۔!
معاشرے میں لوگ عبادت گاہوں سے زیادہ ہسپتالوں میں دعائیں کرتے نظر آتے۔
ہمیں نہ جانے کیوں رب صرف تنگی میں یاد آتا۔
جب خوشحالی ، امن اور تندرستی ہو اس وقت نہ جانے کیوں ہم رب کو بھول جاتے۔
ہم ٹوٹ چکے ہیں اندر سے
ہم سمجھے مخلص تھے تم کو
تم رستہ بدل کر چل دیئے تھے
ہم سہہ گئے دیکھو ہر غم کو
اب لوٹ کے آکر یوں ہم سے
نظریں نہ چوراو رہنے دو
ہم سیکھ چکے ہیں اب جینا
ہم کو نہ سکھاؤ رہنے دو
💔
کچھ رشتوں کے نام نہیں مقام ہوتے ہیں
اگر کوئی ایک بار اس مقام سے گر جائے تو کبھی پہلے جیسا تعلق نہیں رہ پاتا۔
💔
اس دل کو دکھانا ہی تھا اگر
پھر دل کیوں لگایا تھا تم نے
آخر میں رلانا ہی تھا اگر
پھر دل کیوں لگایا تھا تم نے
ہم ٹوٹ چکے ہیں اندر سے
ہم سمجھے مخلص تھے تم کو
تم رستہ بدل کر چل دیئے تھے
ہم سہہ گئے دیکھو ہر غم کو
اب لو کے آکر یوں ہم سے
نظریں نہ چوراو رہنے دو
ہم سیکھ چکے ہیں اب جینا
ہم کو نہ سکھاؤ رہنے دو
💔
❤️
15.01.2025 22:12 — 👍 1 🔁 0 💬 0 📌 0
یہ میری دعا ہے کہ پھر سے
احساس مروت ہوجائے
ہم دونوں میں رب ہی کی خاطر
یوں پھر سے محبت ہو جائے
ماضی کو بھولا کر رونوں میں
پھر دل سے مودت ہو جائے
دل صاف کرو تم بھی اپنا
اب مان بھی جاؤ جانے دو
اپنے رب سے راستہ طلب کر رہی
انشاء اللہ وہ مجھے راستہ ضرور دکھائے گا۔
ہم تیری یادوں میں جانے
کتنے ہی رات نہ سوئے تھے
میرے ہاتھ لہو سے رنگ کئے
دل خون کے آنسو روئے تھے
سوغات دغا دے کر ہم کو
تم خواب سہر میں کھوئے تھے
اب چھوڑ دو ان سب باتوں کو
پھر دل نہ جلاؤ رہنے دو
وہ لمہے سب ہم کاٹ چکے
پھر سے نہ رلاؤ رہنے دو
ہم جان چکے ہیں اب تم کو
تم رخ نہ چھپاؤ رہنے دو
💔
افسوس مگر ہم مل نہ سکے
ہم ان سے نظر کتراتے رہے
ہم آ نہ سکے لیکن ہم کو
تم یاد مسلسل آتے رہے
لفظوں کی تسلی دے دے کر
دل ناداں کو سمجھاتے رہے
ہم تم سے بہت ہی دور ہیں یہ
لمحات علم تڑپاتے رہے
آنکھوں کے فلک سے اشکوں کی
برسات بھی ہم برساتے رہے
💔
اک پھول کھلا تھا محبت کا
اس پھول کی خوشبو تو ہی تھا
کیا خواب نئے تھے تیرے لیئے
اس دل کے محل کا راجا تھا
جذبات محبت میرے صنم
میرے دھڑکن کی آواز بھی تھا
جلتے ہوئے شعلوں کو ایسے
ہرگز نہ دباؤ رہنے دو
احساس محبت کی دل میں
پھر سے نہ جگاؤ رہنے دو
ہم جان چکے ہیں اب تم کو
تم رخ نہ چھپاؤ رہنے دو
😭😭
15.01.2025 21:49 — 👍 1 🔁 0 💬 0 📌 0
جس دل میں جگہ دی ہم نے تمہیں
اس دل کو ہی تم نے توڑ دیا
تا عمر نبھانے کا وعدہ
دوران سفر ہی چھوڑ دیا
قسمیں بھی تمہاری تم جیسی
قسمیں نہ اٹھاؤ رہنے دو
تم بس بھی کرو اب جھوٹ کے تم
مت تیر چلاؤ رہنے دو
یہ صرف تمہارے لیے۔
یوں میرے گلے سے لگ جاؤ
شکوے نہ سناؤ جاںے دو۔
کیوں مجھ سے خفا ہو اب تک تم
اب بھول بھی جاؤ جانے دو
یہ تمہارے لیے ہے
امید ہے اسکو دیکھ کر تم ان بکس کرو گے۔
اچھے وقت میں بھی الحمداللہ کہیں اور اس سے بہترین عمل غم اور تکیلف میں بھی الحمداللہ کہنا ہے۔
15.01.2025 20:32 — 👍 3 🔁 1 💬 0 📌 0
میں چلا شیلہ کرنے انٹارکٹیکا گئی ہوئی تھی۔
ابھی واپس آکر پوچھا۔
اور چلا شیلہ پھانسی لگوانے کیلئے تھا۔
ماضی کے پرانے قصے کے اوراق جلا ڈالے ہم نے
ہر درد کے ہر ہر حصے کے اوراق جلا ڈالے ہم نے
پھر چھیڑ کے ماضی کی یادیں تم غم نہ بڑھاؤ رہنے دو
ساحل پہ پڑی اک کشتی کو دریا پہ نہ لاؤ رہنے دو
اب حال ہمارا مت پوچھو مت پیار جتاو رہنے دو
اب دل میں ہمارے الفت کے تم گل نہ کھلاو رہنے رو۔
میری قسمت بدلنے کو خدا کا نام کافی ہے۔
15.01.2025 18:59 — 👍 0 🔁 0 💬 0 📌 0