بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہوگئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہوگئے
پروین شاکر
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہوگئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہوگئے
پروین شاکر
امجد اسلام امجد
مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند
ہے دیکھنا کہ دھند کے اس پار کون ہے
راجیندر منچندا بانی
یاد تری جیسے کہ سر شام
دھند اتر جائے پانی میں
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍُﺱ ﮐﻮ
ﺧﺎﻟﺪ ، ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﮐﯽ
خالداحمد
پچھلا برس عدیمؔ بڑا ہی طویل تھا
میں بوڑھا ہو گیا ہوں اسی ایک سال میں
عدیمؔ ہاشمی
نویاں سالا۔۔! منہ چُک کے آ جانا ایں
اوہنوں وی تے یار لیا ناں اک واری
چراغ کتنے ضروری ہیں یہ بتاؤ اسے
ہوا سے جھگڑو نہیں تم ہوا سے بات کرو
حنان حانی
نیستی کے
سکوت کامل کے
جہل مطلق
(کہ مطلق ہے)
کے بحر بے موج سے ملوں گا
تو انت ہوگا
اس التباس حیات کا جو تمام دکھ ہے
اسلم انصاری
ملے جو اس کی اجازت مجھے شریعت سے
تو تیرا در ہو مری سجدہ گاہ یا زہرا
____ پیر نصیر الدین نصیر
یہ فتح کا جنون بچھڑنے کا تھا سبب
پھر میں نے دل شکست کے قابل بنا لیا
اجمل فرید
اشفاق احمد کہتے تھے
"پہلی محبت پھلبیری کی طرح ہوتی ہے. بندہ مر جاتا ہے پر داغ نہیں جاتا۔"
پتهر کها کے فیر دعا منگدے
ایڈے صبر تے نئیں انسان کردا
خنیف رانا
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺍﺣﺘﯿﺎﻃﺎً ﺧﻂ ﻧﮧ ﻟﮑﮭﻨﺎ
ﻣﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ
ﻧﺼﺮﺕ ﺻﺪﯾﻘﯽ#
گُڑیوں سے کھیلتی ہُوئی بچّی کی آنکھ میں
آنسو بھی آگیا، تو سمندر لگا ہمَیں
افتخار عارف
عشق میں سچا تھا وہ میری طرح
بے وفا تو آزمانے سے ہوا
نعمان_شوق
رات گزر جائے گی افسانہ کہتے کہتے
سو جائے گا زمانہ دیوانہ کہتے کہتے
جو مل گیا کسی کو قدرت کا خزانہ ہے
یہ لوگ باقی رہ گئے مستانہ کہتے کہتے
پروانے جل اٹھیں گے جلدی شمع کے اوپر
اڑ جائے گا یہ پنچھی اشیانہ کہتے کہتے
ساگر میں سمندر تھا کیا مل گیا حضور
محفل میں رند رہ گئے پیمانہ کہتے کہتے
داغؔ دہلوی
ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
عموماً ھم بہت کم بولتے ہیں
اگر بولیں تو بس ھم بولتے ہیں
فہمی بدایونی
شہر کو چھوڑ کے گاؤں کی طرف جاتے ہیں
لعل تھک جائیں تو ماؤں کی طرف جاتے ہیں
عدنان محسن
Well wishes
18.11.2024 01:23 — 👍 2 🔁 0 💬 0 📌 0
یہ جو میں بھاگتا ہوں وقت سے آگے آگے
میری وحشت کے مطابق یہ روانی کم ہے
تابش