وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا قافلہ دریا کابل کراس کرتے ہوئے صوابی انٹرچینج کی طرف رواں دواں ہے. ان شاءاللہ ڈی چوک جاکر دم لینگے. اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا.
عمران خان کے حکم پر ہر صورت عمل کروں گا، کارکن ڈی چوک پہنچیں، علی امین گنڈا پور
دنیا کے کسی بھی ملک میں احتجاج کے لئے کسی سے اجازت نہیں لی جاتی
یہاں احتجاج کی بات کرو تو دھمکیاں الگ پرچے الگ غنڈہ گردی الگ
کیسے کیسے جاہلوں کی حکمرانی ہے۔
🫡🫡🫡🫡🫡
سوشل میڈیا پہ 24 نومبر کے حوالے سے چلائی جانے والی فیک نیوز اور پراپیگنڈا پہ توجہ مت دیں، بانی چیئرمین عمران خان کی کال پہ تمام ممبران قومی اسمبلی صوبائی اسمبلی ورکرز عہدے داران اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ 24 نومبر کی فائنل کال پر توجہ دیں عون عباس بپی صدر PTI جنوبی پنجاب
ایک زندہ قوم ہمیشہ اپنی آزادی کے لئے کھڑی ہوتی ہے!
🗓 24 نومبر 2024
📍 اسلام آباد
اگر اس بار پی ٹی آئی کا احتجاج ناکام ہوا تو یہ محض ایک سیاسی ناکامی نہیں ہوگی، بلکہ ایک تاریخی موڑ ثابت ہوگا۔ یہ واضح ہو جائے گا کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کے سیاسی مستقبل کو تقریباً ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایسی صورت میں عمران خان کا جیل سے باہر آنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا.اب یا کبھی نہیں۔
پاکستانیوں کو ہر حال میں 24 کو اپنی آزادی کے لیے نکلنا ہو گا میرے اوپر دو قاتلانہ حملے ہوئے چار گولیاں لگیں میں اقتدار کے لیے نہیں بلکہ قوم کی آزادی کے لیے لڑ رہا ہوں۔ عمران خان کا پیغام
عمرآن خان زندہ آباد
علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کےذریعے آفر آئی کہ احتجاج ملتوی کردیں سب ٹھیک ہو جائےگا۔ میں نے انڈر ٹرائل لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تاکہ مذاکرات کی سنجیدگی کا پتہ چل جائے۔ یہ ڈیمانڈ فوری پوری ہو سکتی تھی جو انہوں نے نہیں کی۔ یہ صرف احتجاج ملتوی کرانا چاہتے تھے۔ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو
فائنل کال 24 نومبر
کون کون خان کے ساتھ ہے
میں✋
قیدی نمبر 804
عمرآن خان جیل میں آپنے وکیلوں سے بات کرتے ہوئے